Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad, Date: 18.04.2017, Time : 8.40 to 8.45 AM
Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad.
Date - 18 April 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۱۸؍ اپریل ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
کل اَورنگ آباد میں رِیاست کے اِنفارمیشن کمشنر رَتناکر گائیکواڑ اَور اُن کی اَہلیہ پر حملہ آوَر ہونے اَور اُنہیں مارپیٹ کرنے کے معاملے میں پولس نے رِیپبلکن پارٹی‘ بہوجن مہا سنگھ کے آٹھ وَرکروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ جن میں دو خواتین وَرکرس بھی شامل ہیں۔ مشتعل حملہ آوَروں کا کہنا تھا کہ ممبئی میں اَمبیڈکر بھون کے اِنہدام کی ذِمّہ داری جناب گائیکواڑ پر عائد ہوتی ہے۔ پولس نے سبھی آٹھ حملہ آوَروں کیخلاف اِقدامِ قتل کا معاملہ دَرج کیا ہے۔ اِس واقعہ میں دو پولس کے جوان زَخمی ہوئے ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
میڈیکل کورسیس میں داخلہ کے لیے لازِمی قومی اَہلیتی اِمتحان کی مجوزہ تاریخ میں تبدیلی سے سپریم کورٹ نے اِنکار کردِیا ہے۔ یہ اِمتحان اَب حسبِ معمول 7/ مئی کو منعقد کیا جائے گا۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مرکزی وزارتِ مالیات نے کفایتی مکانات اَور جھونپڑپٹیوں کی اَز سرِ نو ترقی کو بنیادی سہولیات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت کی جانب سے گذشتہ اَکتوبر 2014 میں بنیادی سہولیات کے زمرے میں آنے والے شعبۂ جات کی فہرست شائع کی گئی تھی جس میں پانی‘ صاف صفائی‘ بجلی کی پیداوار کے علاوہ سماجی اَور پیشہ وارانہ بنیادی ضروریات کو بھی اِس زمرے میں شامل کیا گیا تھا۔ وَزیرِ اَعلیٰ دیویندر فرنویس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ جھونپڑپٹیوں کی اَزسرِ نو ترقی اَور کفایتی مکانات کو بھی اِس زمرے میں شامل کیا جائے۔ وَزیرِ اَعلیٰ کے مطالبہ کے مدِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ممبئی ہائی کورٹ نے رِیاستی حکومت کو حکم دِیا ہے کہ وہ رِیاست میں قائم پولس Complain Authority سے متعلق سبھی معلومات عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے حکومت سے وَضاحت طلب کی ہے کہ پولس اَفسران کے خلاف شکایات کے لیے قائم کی گئی Authority کا کام کاج اَب تک کیوں شروع نہیں ہوسکا ہے۔ عدالت نے پولس اَفسران کی شکایت کے لیے اِس اَتھاریٹی کے قیام کا 2006 میں حکم دِیا تھا۔ جس کے لیے رِیاست میں بنیادی سہولیات کا بھی اِنتظام کیا گیا ہے تاہم عملاً اَتھاریٹی کا کام کاج اَبھی تک شروع نہیں ہوا ہے۔ اِس ضمن میں آئندہ 20 / تاریخ تک عدالت میں رِیاستی حکومت کو اَپنی وَضاحت پیش کرنی ہوگی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مراٹھا ریزرویشن معاملے کو بیک وَرڈ کلاسیس کمیشن کے پاس منتقل کیے جانے پر رِیاستی حکومت کو کوئی اِعتراض نہیں ہے۔ اِس ضمن میں عدالت نے رِیاستی حکومت کو اَپنا حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم اس مقدمہ کے دیگر فریقوں کی آراء اِس معاملے میں اَلگ اَلگ ہے۔ لہٰذا عدالت نے سبھی فریقوں کو بھی اَپنے اَپنے حلف نامے داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
سپریم کورٹ نے کل بامبے ہائی کورٹ کے سرکاری Liquidators سے کہا ہے کہ وہ سہارا گروپ کی ملکیت والی Aamba Valley کی 34/ ہزار کروڑ رُوپئے مالیت کی املاک بیچ دیں۔ عدالت نے سہارا کے سربراہ سبرت رائے کو ہدایت دی ہے کہ وہ 28/ اپریل یا اس سے پہلے ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہوجائے۔ سہارا گروپ کی جانب سے پانچ ہزار کروڑ رُوپیوں سے زائد رَقم جمع نہ کروانے پر سخت مؤقف اِختیار کرتے ہوئے اُنہیں عدالت نے خبردار کیا کہ وہ عدالت کے حکم سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اِس سے آخرکار رائے کو ہی نقصان ہوگا۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کسانوں کے قرضۂ جات کی معافی اَور دیگر مطالبات کی یکسوئی کے لیے کانگریس کی قیادت میں جاری سنگھرش یاترا کل ناسک ضلع کے تعلقہ مالیگائوں پہنچی۔ اِس موقع پر منعقدہ رَیلی سے خطاب کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی قائد اَجیت پوار نے کہا کہ کسانوں کے قرضۂ جات معاف کرنے کے لیے حکومت مزید کتنے کسانوں کی خود سوزیوں کا اِنتظار کررَہی ہے۔ اِس موقع پر کانگریس قائد اَور رِیاست کے سابق وَزیرِ اَعلیٰ اَشوک چوہان‘ اَسمبلی میں حزبِ اِختلاف رَہنما رادھا کرشن وِکھے پاٹل‘ سابق وَزیر بالا صاحب تھورات‘ سمیت اَراکینِ اَسمبلی و پارلیمنٹ کے علاوہ نامور سیاسی اَور سماجی شخصیات موجود تھیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
پربھنی‘ لاتور اَور چندر پور میونسپل کارپوریشن اِنتخابات کے لیے کل رائے دَہی ہوگی۔ کل تینوں مقامات کی اِنتخابی تشہیری مہم ختم ہوگئی ۔لاتور میں کانگریس اَور مجلسِ اِتحادُالمسلمین کی جانب سے کل آخری دِن بڑے قائدین کے تشہیری جلسے ہوئے جبکہ نیشنلسٹ کانگریس اَور شیوسینا نے بڑے تشہیری جلسوں سے گریز کرتے ہوئے اِنتخابی حلقوں میں راست رائے دَہندگان تک رَسائی کی کوشش کی۔ لاتور میں 18/ میونسپل زون کی 70/ نشستوں کے لیے 407/ اُمیدوار اِنتخابی میدان میں ہیں جبکہ پربھنی میں 65/نشستوں کے لیے 418/ اُمیدوار میدان میں ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مراٹھواڑہ میں کل ناندیڑ میں سب سے زِیادہ 44/ اَعشاریہ ْ 5/ ڈِگری سیلسیئس دَرجۂ حرارت دَرج کیا گیا۔ اِس کے بعد پربھنی 44/ اَعشاریہ ْ2/ سیلسیئس‘ بیڑ 43.2/ جبکہ اَورنگ آباد میں ْ41.4/ ڈِگری سیلسیئس دَرجۂ حرارت رَہا۔ دَریں اَثناء مراٹھواڑہ اَور وَسطی مہاراشٹر میں مزید ایک دو دِن شدید گرمی کی لہر قائم رَہے گی۔ محکمۂ موسمیات نے یہ پیش گوئی کی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے عوام سے اَپیل بھی کی ہے کہ وہ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے اِحتیاطی تدابیر اَپنائیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
Date - 18 April 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۱۸؍ اپریل ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
کل اَورنگ آباد میں رِیاست کے اِنفارمیشن کمشنر رَتناکر گائیکواڑ اَور اُن کی اَہلیہ پر حملہ آوَر ہونے اَور اُنہیں مارپیٹ کرنے کے معاملے میں پولس نے رِیپبلکن پارٹی‘ بہوجن مہا سنگھ کے آٹھ وَرکروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ جن میں دو خواتین وَرکرس بھی شامل ہیں۔ مشتعل حملہ آوَروں کا کہنا تھا کہ ممبئی میں اَمبیڈکر بھون کے اِنہدام کی ذِمّہ داری جناب گائیکواڑ پر عائد ہوتی ہے۔ پولس نے سبھی آٹھ حملہ آوَروں کیخلاف اِقدامِ قتل کا معاملہ دَرج کیا ہے۔ اِس واقعہ میں دو پولس کے جوان زَخمی ہوئے ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
میڈیکل کورسیس میں داخلہ کے لیے لازِمی قومی اَہلیتی اِمتحان کی مجوزہ تاریخ میں تبدیلی سے سپریم کورٹ نے اِنکار کردِیا ہے۔ یہ اِمتحان اَب حسبِ معمول 7/ مئی کو منعقد کیا جائے گا۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مرکزی وزارتِ مالیات نے کفایتی مکانات اَور جھونپڑپٹیوں کی اَز سرِ نو ترقی کو بنیادی سہولیات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت کی جانب سے گذشتہ اَکتوبر 2014 میں بنیادی سہولیات کے زمرے میں آنے والے شعبۂ جات کی فہرست شائع کی گئی تھی جس میں پانی‘ صاف صفائی‘ بجلی کی پیداوار کے علاوہ سماجی اَور پیشہ وارانہ بنیادی ضروریات کو بھی اِس زمرے میں شامل کیا گیا تھا۔ وَزیرِ اَعلیٰ دیویندر فرنویس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ جھونپڑپٹیوں کی اَزسرِ نو ترقی اَور کفایتی مکانات کو بھی اِس زمرے میں شامل کیا جائے۔ وَزیرِ اَعلیٰ کے مطالبہ کے مدِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ممبئی ہائی کورٹ نے رِیاستی حکومت کو حکم دِیا ہے کہ وہ رِیاست میں قائم پولس Complain Authority سے متعلق سبھی معلومات عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے حکومت سے وَضاحت طلب کی ہے کہ پولس اَفسران کے خلاف شکایات کے لیے قائم کی گئی Authority کا کام کاج اَب تک کیوں شروع نہیں ہوسکا ہے۔ عدالت نے پولس اَفسران کی شکایت کے لیے اِس اَتھاریٹی کے قیام کا 2006 میں حکم دِیا تھا۔ جس کے لیے رِیاست میں بنیادی سہولیات کا بھی اِنتظام کیا گیا ہے تاہم عملاً اَتھاریٹی کا کام کاج اَبھی تک شروع نہیں ہوا ہے۔ اِس ضمن میں آئندہ 20 / تاریخ تک عدالت میں رِیاستی حکومت کو اَپنی وَضاحت پیش کرنی ہوگی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مراٹھا ریزرویشن معاملے کو بیک وَرڈ کلاسیس کمیشن کے پاس منتقل کیے جانے پر رِیاستی حکومت کو کوئی اِعتراض نہیں ہے۔ اِس ضمن میں عدالت نے رِیاستی حکومت کو اَپنا حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم اس مقدمہ کے دیگر فریقوں کی آراء اِس معاملے میں اَلگ اَلگ ہے۔ لہٰذا عدالت نے سبھی فریقوں کو بھی اَپنے اَپنے حلف نامے داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
سپریم کورٹ نے کل بامبے ہائی کورٹ کے سرکاری Liquidators سے کہا ہے کہ وہ سہارا گروپ کی ملکیت والی Aamba Valley کی 34/ ہزار کروڑ رُوپئے مالیت کی املاک بیچ دیں۔ عدالت نے سہارا کے سربراہ سبرت رائے کو ہدایت دی ہے کہ وہ 28/ اپریل یا اس سے پہلے ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہوجائے۔ سہارا گروپ کی جانب سے پانچ ہزار کروڑ رُوپیوں سے زائد رَقم جمع نہ کروانے پر سخت مؤقف اِختیار کرتے ہوئے اُنہیں عدالت نے خبردار کیا کہ وہ عدالت کے حکم سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اِس سے آخرکار رائے کو ہی نقصان ہوگا۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کسانوں کے قرضۂ جات کی معافی اَور دیگر مطالبات کی یکسوئی کے لیے کانگریس کی قیادت میں جاری سنگھرش یاترا کل ناسک ضلع کے تعلقہ مالیگائوں پہنچی۔ اِس موقع پر منعقدہ رَیلی سے خطاب کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی قائد اَجیت پوار نے کہا کہ کسانوں کے قرضۂ جات معاف کرنے کے لیے حکومت مزید کتنے کسانوں کی خود سوزیوں کا اِنتظار کررَہی ہے۔ اِس موقع پر کانگریس قائد اَور رِیاست کے سابق وَزیرِ اَعلیٰ اَشوک چوہان‘ اَسمبلی میں حزبِ اِختلاف رَہنما رادھا کرشن وِکھے پاٹل‘ سابق وَزیر بالا صاحب تھورات‘ سمیت اَراکینِ اَسمبلی و پارلیمنٹ کے علاوہ نامور سیاسی اَور سماجی شخصیات موجود تھیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
پربھنی‘ لاتور اَور چندر پور میونسپل کارپوریشن اِنتخابات کے لیے کل رائے دَہی ہوگی۔ کل تینوں مقامات کی اِنتخابی تشہیری مہم ختم ہوگئی ۔لاتور میں کانگریس اَور مجلسِ اِتحادُالمسلمین کی جانب سے کل آخری دِن بڑے قائدین کے تشہیری جلسے ہوئے جبکہ نیشنلسٹ کانگریس اَور شیوسینا نے بڑے تشہیری جلسوں سے گریز کرتے ہوئے اِنتخابی حلقوں میں راست رائے دَہندگان تک رَسائی کی کوشش کی۔ لاتور میں 18/ میونسپل زون کی 70/ نشستوں کے لیے 407/ اُمیدوار اِنتخابی میدان میں ہیں جبکہ پربھنی میں 65/نشستوں کے لیے 418/ اُمیدوار میدان میں ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مراٹھواڑہ میں کل ناندیڑ میں سب سے زِیادہ 44/ اَعشاریہ ْ 5/ ڈِگری سیلسیئس دَرجۂ حرارت دَرج کیا گیا۔ اِس کے بعد پربھنی 44/ اَعشاریہ ْ2/ سیلسیئس‘ بیڑ 43.2/ جبکہ اَورنگ آباد میں ْ41.4/ ڈِگری سیلسیئس دَرجۂ حرارت رَہا۔ دَریں اَثناء مراٹھواڑہ اَور وَسطی مہاراشٹر میں مزید ایک دو دِن شدید گرمی کی لہر قائم رَہے گی۔ محکمۂ موسمیات نے یہ پیش گوئی کی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے عوام سے اَپیل بھی کی ہے کہ وہ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے اِحتیاطی تدابیر اَپنائیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
No comments:
Post a Comment