▼

Friday, 4 October 2019

Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad.
Date: 04 October 2019
Time:  8:40 to 8:45 am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ:  ۴ ؍اکتوبر  ۲۰۱۹ئ؁
وَقت: صبح ۴۰:۸۔ ۴۵:۸

 ریاستی اسمبلی انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا آج آخری دن ہے۔ کل تقریباً تمام خواہشمند امید وارںنے اپنے پرچۂ نامزدگی داخل کر دیے۔  ریاست بھر میں مختلف اسمبلی حلقوں سے کل  ایک ہزار 423؍ امید واروں نے ایک ہزار969؍ پرچہ نامزدگی داخل کیے ۔ مراٹھواڑے کے 46؍ اسمبلی حلقوں سے 357؍ امید واروں کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے گئے۔
 اورنگ آ باد مشرق حلقہ انتخا ب سے عظیم اتحاد کے اتُل سا وے  ‘  اور  ایم آئی ایم کے عبد الغفار قادری   ‘ جبکہ  اورنگ آباد وسط حلقہ انتخاب سے بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے ابھئے ٹاکسال اور ایم آئی ایم کے نا صر صدیقی ‘  اِسی طرح اورنگ آ باد مغرب حلقہ انتخاب سے عظیم اتحاد کے سنجئے شر ساٹھ نے کل  اپنے پرچہ نامزدگی داخل کیے۔
 پر بھنی ضلعے میں پا تھری حلقہ انتخا ب سے بی جے پی کے موہن پھڑ  ‘ پر بھنی سے شیو سینا کے راہل پاٹل  ‘ گنگا کھیڑ سے شیو سینا کے وشال کدم  ‘ جبکہ این سی پی  کے مدھو سُدن کیندرے  ‘ جنتور-  سیلو  حلقے سے راشٹر وا دی کانگریس پارٹی کے وجئے بھامبڑے ‘  اور سماج وادی پارٹی کے دلا ور جمال صاحب نے امید واری در خواست داخل کی۔
 جالنہ ضلعے میں پر تور حلقہ سے نگراں وزیر ببن رائو لونیکر نے قوت کا مظا ہرہ کر تے ہوئے اپنے پر چہ ٔ نامزدگی داخل کیے۔  جالنہ اسمبلی حلقے  سے کانگریس پارٹی کے کیلاش گورنٹیال ‘ گھن سائونگی سے این سی پی کے راجیش ٹو پے ‘ شیو سینا کے حکمت اُڈھان ‘ بھو کر دن سے راشٹر وا دی کانگریس پارٹی کے چندر کانت دانوے اور بد نا پور سے روپ کمار چو دہدری نے اپنی درخواستیںداخل کی۔
  بیڑ ضلعے میں پر لی حلقے سے عظیم اتحاد کی امیدوار پنکجا منڈے جبکہ عظیم محاذ کے دھننجئے منڈے نے پرچہ ٔ نامزدگی داخل کیے۔ بیڑ حلقہ سے عظیم اتحاد کے جئے دت شِر سا گر  ‘ لاتور شہر حلقہ انتخاب سے عظیم اتحاد کے امیت دیشمکھ جبکہ لاتور دیہی حلقہ سے دھیرج دیشمکھ نے کل پر چہ ٔ نامزدگی داخل کیے۔
  عثمان آ باد ضلعے میں عمر گہ حلقہ انتخا ب سے عظیم اتحاد کے گیان راج چو گُلے ‘ تلجا پور سے کانگریس پارٹی کے مدھو کر چو ہان  اور عظیم اتحاد کے رانا جگجیت سنگھ پاٹل ‘ پرنڈا سے عظیم اتحاد کے تانا جی سا ونت جبکہ عظیم محاذ کے راہل موٹے  ‘ اور ونچت بہو جن آ گھاڑی کے دھننجئے شِنگاڈے نے بھی کل  اپنے پرچۂ نامزدگی داخل کیے۔
 اِسی دوران ساتارہ میں لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کے لیے کانگریس-راشٹر وادی کانگریس پارٹی اتحاد کے شری نِواس پاٹل نے  بھی کل اپنے پر چۂ نامزدگی داخل کر دیے۔

***** ***** ***** 

 اسمبلی انتخا بات کے لیے راشٹر وا دی کانگریس پارٹی کی جانب سے کل امید واروں کی دوسری فہرست جا ری کی گئی۔ اِس فہرست میں 20؍ امید واروں کے نام شامل ہیں۔ جس میں اورنگ آباد ضلعے کے کنڑ حلقہ انتخا بات سے سنتوش کولہے  ‘  پر بھنی ضلعے میں گنگا کھیڑ حلقہ سے ڈاکٹر مدھو سُدن کیندرے   اور  بیڑ ضلعے میں اشٹی حلقہ سے بالا صاحیت آجبے کو پارٹی امید وار نامزد کیا گیا ہے۔ 

***** ***** ***** 

 سلوڑ اسمبلی حلقے سے کانگریس پارٹی نے اپنا امید وار تبدیل کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے کل جا ری کی گئی چو تھی فہرست کے مطا بق سلوڑ سے پر بھا کر پالودکر کی امید واری  رد  کر کے قیصر آزاد کو پارٹی امید وار نامزد کیا گیا ہے۔ 

***** ***** ***** 

  راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر جنت پاٹل نے تیقن دیا ہے کہ راشٹر وادی کانگریس ‘ کانگریس پارٹی  اور عظیم محاذ میں شامل دوست جماعتوں کی حکومت آنے پر ریاست بھر میں تمام کسا نوں کو مکمل قرض معا فی دینے کا فیصلہ کا بینہ کے پہلے ہی اجلاس میں لے لیا جائے گا۔وہ کل جالنہ ضلعے میں گھن سائونگی حلقہ انتخاب سے راجیش ٹو پے کی درخواستِ نامزدگی داخل کرنے کے بعد جلسۂ عام میں خطاب کر رہے تھے۔اُنھوں نے کہا کہ این سی پی کی جانب سے اسمبلی حلقہ انتخاب کے لیے نوجوانوں کو موقع دیئے جانے سے متا ثر ہو کر بڑی تعداد میں نو جوان این سی پی کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ 

***** ***** ***** 

 راشٹر وادی کانگریس پا رٹی کے قائد شرد پوار نے کہا ہے کہ موجودہ حکو مت کسا نوں کی خود کشی اور قحط جیسے موضوعات پر وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔وہ کل تھا نہ میں ایک اخباری کانفرنس میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے یہ محسوس ہو تا ہے کہ ریاست میں تبدیلی متوقع ہے۔پوار نے کہا کہ عوام جب بھی ناراض ہو تے ہیں تب دفعہ370؍ اور رام مندر جیسے حساس موضوعات گر مائے جا تے ہیں۔

***** ***** ***** 

 بھارت اور جنوبی افریقہ کے ما بین وشا کھا پٹنم میں کھیلے جارہے پہلے کرکٹ ٹسٹ مقابلے  میں کل دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک جنوبی افریقہ نے 20؍ اووروں میں3؍ وکٹ کے نقصان پر39؍ رن بنا لیے تھے۔ اِس سے قبل بھارت نے پہلی پاری میں 7؍ وکٹ کے نقصان پر 502؍ رن بنا کر اپنی پاری کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا ۔ جنوبی افریقہ اب بھی 463؍ رن سے پیچھے ہے۔

***** ***** ***** 

No comments:

Post a Comment