Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad, Date: 03.05.2017, Time : 8.40 to 8.45 AM
Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad.
Date - 03 May 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۳؍مئی ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
تور کی خریداری کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ کام کی جلد تکمیل کے لیے زائد افرادی قوت اِستعمال کی جائے اور خریداری مراکز دن اور رات دونوں اوقات میں جاری رکھے جائیں۔ وزیرِ اعلیٰ دیو یندر فرنویس نے متعلقہ حکام کو یہ احکامات دِئیے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ 22/ اپریل تک 831/ کروڑ روپئے قیمت کی 40/ لاکھ کوئنٹل تور خریدی کی جاچکی ہے۔ کل کابینی میٹنگ کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ تور کی ذخیرہ اندوزی کے لے حسب ِ ضرورت خانگی گودام بھی کرائے پر حاصل کیے جائیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ریاستی کابینہ نے تالابوں میں جمع شدہ گال کو نکال کر کسانوں کو ِئیے جانے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ تالابوں سے گال کشی کے بعد پانی کی ذخیرہ اندوزی کی گنجائش میں اضافہ ہوگا‘ اسی کے ساتھ ساتھ یہ گال کھیتوں میں پھیلانے سے زمین کی زرخیزی بھی بڑھے گی۔ تالابوں سے گال کشی کے لیے تقریباً 6/ ہزار 236/ کروڑ روپیوں کے اخراجات درکار ہیں۔ آئندہ چار برسوں میں مرحلہ وار یہ کام مکمل کیا جائے گا۔ یہ گال کسانوں کو مفت فراہم کیا جائے گا تاہم تالابوں سے کھیتوں تک لے جانے کے اخراجات کسانوں کے ذمہ ہوں گے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مہاراشٹر اشیاء اور خدمات ٹیکس بل کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا اسمبلی کا خصوصی اجلاس 17/ مئی کے بجائے اب 20/ تا 22/ مئی کے درمیان ہوگا۔ وزیرِ مالیات سدھیر منگنٹی وار نے کل کابینی اِجلاس کے بعد یہ اطلاع دی۔
دریں اثناء شیوسینا نے کسانوں کے قرضۂ جات کی معافی اور کسانوں کے مسائل پر بحث و مباحثہ کی غرض سے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیرِ تعمیراتِ عامّہ ایکناتھ شندے کی قیادت میں کل شیوسینا کے وزراء کے ایک وفد نے وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کرکے ان سے یہ مطالبہ کیا۔ شیوسینا وزراء نے وزیرِ اعلیٰ سے کہا کہ وہ اشیاء اور خدمات ٹیکس بل کے لیے طلب کردہ اجلاس کی مدت میں مزید دو دِنوں کا اضافہ کریں تاکہ کسانوں کے مسائل پر تشفی بخش بات چیت ہوسکے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اسی بیچ ریاست کی حزبِ اختلاف جماعتیں بھی کسانوں کے قرض کی معافی کے لیے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کررہی ہیں۔ حزبِ اختلاف جماعتوں کے ارکان نے کل گورنر سی ودیا ساگر رائو سے ملاقات کرکے انہیں اس ضمن میں درخواست پیش کی۔ اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے اپوزیشن لیڈران سمیت کئی نامور سیاسی شخصیات اس موقع پر موجود تھیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
Date - 03 May 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۳؍مئی ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
تور کی خریداری کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ کام کی جلد تکمیل کے لیے زائد افرادی قوت اِستعمال کی جائے اور خریداری مراکز دن اور رات دونوں اوقات میں جاری رکھے جائیں۔ وزیرِ اعلیٰ دیو یندر فرنویس نے متعلقہ حکام کو یہ احکامات دِئیے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ 22/ اپریل تک 831/ کروڑ روپئے قیمت کی 40/ لاکھ کوئنٹل تور خریدی کی جاچکی ہے۔ کل کابینی میٹنگ کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ تور کی ذخیرہ اندوزی کے لے حسب ِ ضرورت خانگی گودام بھی کرائے پر حاصل کیے جائیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ریاستی کابینہ نے تالابوں میں جمع شدہ گال کو نکال کر کسانوں کو ِئیے جانے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ تالابوں سے گال کشی کے بعد پانی کی ذخیرہ اندوزی کی گنجائش میں اضافہ ہوگا‘ اسی کے ساتھ ساتھ یہ گال کھیتوں میں پھیلانے سے زمین کی زرخیزی بھی بڑھے گی۔ تالابوں سے گال کشی کے لیے تقریباً 6/ ہزار 236/ کروڑ روپیوں کے اخراجات درکار ہیں۔ آئندہ چار برسوں میں مرحلہ وار یہ کام مکمل کیا جائے گا۔ یہ گال کسانوں کو مفت فراہم کیا جائے گا تاہم تالابوں سے کھیتوں تک لے جانے کے اخراجات کسانوں کے ذمہ ہوں گے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مہاراشٹر اشیاء اور خدمات ٹیکس بل کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا اسمبلی کا خصوصی اجلاس 17/ مئی کے بجائے اب 20/ تا 22/ مئی کے درمیان ہوگا۔ وزیرِ مالیات سدھیر منگنٹی وار نے کل کابینی اِجلاس کے بعد یہ اطلاع دی۔
دریں اثناء شیوسینا نے کسانوں کے قرضۂ جات کی معافی اور کسانوں کے مسائل پر بحث و مباحثہ کی غرض سے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیرِ تعمیراتِ عامّہ ایکناتھ شندے کی قیادت میں کل شیوسینا کے وزراء کے ایک وفد نے وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کرکے ان سے یہ مطالبہ کیا۔ شیوسینا وزراء نے وزیرِ اعلیٰ سے کہا کہ وہ اشیاء اور خدمات ٹیکس بل کے لیے طلب کردہ اجلاس کی مدت میں مزید دو دِنوں کا اضافہ کریں تاکہ کسانوں کے مسائل پر تشفی بخش بات چیت ہوسکے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اسی بیچ ریاست کی حزبِ اختلاف جماعتیں بھی کسانوں کے قرض کی معافی کے لیے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کررہی ہیں۔ حزبِ اختلاف جماعتوں کے ارکان نے کل گورنر سی ودیا ساگر رائو سے ملاقات کرکے انہیں اس ضمن میں درخواست پیش کی۔ اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے اپوزیشن لیڈران سمیت کئی نامور سیاسی شخصیات اس موقع پر موجود تھیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کل ممبئی میں منترالئے کے داخلی دروازے پر بڑی راجہ شیتکری سنگھٹنا کے اراکین نے تور۔ پیاز اور کیلے پھینک کر اپنا احتجاج درج کروایا۔ اس دوران سنگھٹنا کے ورکروں نے حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ پولس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اہم شخصیات کے مجسّمے نصب کرنے کے اختیارات اب ضلع کلکٹرس کی صدارت والی کمیٹی کو دِئیے جائیں گے۔ اس ضمن میں ریاست کے عمومی نظم و نسق کے شعبہ کی جانب سے کل ضروری رہنما خطوط جاری کیے گئے۔ جس کے تحت ایک ہی گائوں میں ایک ہی شخصیت کے مجسّموں کے درمیان ضروری فاصلے کی حد طے کی گئی ہے۔ دو کلو میٹر کی حد کے اندر اندر ایک ہی اہم شخصیت کا دوسرا مجسمہ نصب نہیں کیا جاسکے گا۔ مجسمہ نصب کرنے کے لیے درکار اخراجات اور مجسّمے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نصب کرنے والوں ہی کے ذمہ ہوگی۔ اسی طرح راستہ کی کشادگی یا دیگر ترقی کے کاموں کے لیے مجسمہ کہیں اور منتقل کرنا پڑے تب اس کے اخراجات بھی متعلقہ کمیٹی ہی کے ذمہ ہوں گے۔ مجسمہ کی تنصیب سے پہلے اس طرح کا حلف نامہ کمیٹی کو پیش کرنا ضروری قرار دِیا گیا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اناج اور دالوں پر سے زرعی مارکیٹ کمیٹیوں کا کنٹرول ختم کیا جائے۔ ریاست کے مملکتی وزیرِ زراعت سدا بھائو کھوت نے ایک مکتوب کے ذریعہ وزیرِ اعلیٰ سے یہ مطالبہ کیا ہے۔ جناب کھوت نے وضاحت کی ہے کہ اس کے سبب بازار کمیٹیوں پر سے تاجروں اور سیاسی قائدین کا دبائو ختم ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس سال اناج اور تلہن کی بڑے پیمانے پر پیداوار ہوئی ہے اور اس زرعی پیداوار پر سے مارکیٹ کمیٹیوں کا کنٹرول ختم کیا جانا کسانوں میں مفاد میں ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مراٹھا ریزرویشن معاملہ OBC کمیشن کے سپرد کیے جانے سے متعلق ریاستی حکومت کل تک اپنامؤقف واضح کریں۔ بامبے ہائی کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے رِیاستی حکومت کہہ چکی ہے کہ اسے مراٹھا ریزرویشن معاملہ OBC کمیشن کے سپرد کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے کہا ہے کہ اس بات سے ریاستی حکومت کا مؤقف واضح نہیں ہوتا ۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
پربھنی شہر کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کی غرض سے کل صبح 8/ بجے سے دودھنا ندی پر بنائے گئے تالاب سے ندی کے زیریں علاقے میں ایک ہزار دو سو مکعب فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی چھوڑا جائیگا۔ ندی کے کنارے آباد قصبات کے لوگوں کو حکام نے چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔
دریں اثناء پربھنی شہر کے کچھ علاقوں کو گذشتہ پیر سے 22/ ٹینکرس کے ذریعے پانی فراہم کیاجارہا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اہم شخصیات کے مجسّمے نصب کرنے کے اختیارات اب ضلع کلکٹرس کی صدارت والی کمیٹی کو دِئیے جائیں گے۔ اس ضمن میں ریاست کے عمومی نظم و نسق کے شعبہ کی جانب سے کل ضروری رہنما خطوط جاری کیے گئے۔ جس کے تحت ایک ہی گائوں میں ایک ہی شخصیت کے مجسّموں کے درمیان ضروری فاصلے کی حد طے کی گئی ہے۔ دو کلو میٹر کی حد کے اندر اندر ایک ہی اہم شخصیت کا دوسرا مجسمہ نصب نہیں کیا جاسکے گا۔ مجسمہ نصب کرنے کے لیے درکار اخراجات اور مجسّمے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نصب کرنے والوں ہی کے ذمہ ہوگی۔ اسی طرح راستہ کی کشادگی یا دیگر ترقی کے کاموں کے لیے مجسمہ کہیں اور منتقل کرنا پڑے تب اس کے اخراجات بھی متعلقہ کمیٹی ہی کے ذمہ ہوں گے۔ مجسمہ کی تنصیب سے پہلے اس طرح کا حلف نامہ کمیٹی کو پیش کرنا ضروری قرار دِیا گیا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اناج اور دالوں پر سے زرعی مارکیٹ کمیٹیوں کا کنٹرول ختم کیا جائے۔ ریاست کے مملکتی وزیرِ زراعت سدا بھائو کھوت نے ایک مکتوب کے ذریعہ وزیرِ اعلیٰ سے یہ مطالبہ کیا ہے۔ جناب کھوت نے وضاحت کی ہے کہ اس کے سبب بازار کمیٹیوں پر سے تاجروں اور سیاسی قائدین کا دبائو ختم ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس سال اناج اور تلہن کی بڑے پیمانے پر پیداوار ہوئی ہے اور اس زرعی پیداوار پر سے مارکیٹ کمیٹیوں کا کنٹرول ختم کیا جانا کسانوں میں مفاد میں ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مراٹھا ریزرویشن معاملہ OBC کمیشن کے سپرد کیے جانے سے متعلق ریاستی حکومت کل تک اپنامؤقف واضح کریں۔ بامبے ہائی کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے رِیاستی حکومت کہہ چکی ہے کہ اسے مراٹھا ریزرویشن معاملہ OBC کمیشن کے سپرد کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے کہا ہے کہ اس بات سے ریاستی حکومت کا مؤقف واضح نہیں ہوتا ۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
پربھنی شہر کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کی غرض سے کل صبح 8/ بجے سے دودھنا ندی پر بنائے گئے تالاب سے ندی کے زیریں علاقے میں ایک ہزار دو سو مکعب فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی چھوڑا جائیگا۔ ندی کے کنارے آباد قصبات کے لوگوں کو حکام نے چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔
دریں اثناء پربھنی شہر کے کچھ علاقوں کو گذشتہ پیر سے 22/ ٹینکرس کے ذریعے پانی فراہم کیاجارہا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
No comments:
Post a Comment