Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad.
Date - 07 March 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۷؍ مارچ ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
رِیاستی اَسمبلی کے بجٹ اِجلاس کی کل شروعات ہوئی۔ وَزیرِ اَعلیٰ دیویندر پھڑنویس نے قانون ساز اَسمبلی میں گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پیش کی۔ اِسکے بعد اُنھوں نے چار آرڈِیننس اَور تین سرکاری بِل اَیوان میں پیش کیے۔ وَزیرِ مالیات سدھیر منگنٹیوار نے بھی گیارہ ہزار کروڑ رُوپئوں پر مبنی مطالباتی ضمیمے اَیوان میں پیش کیے۔ اِن میں محکمہ توانائی کیلئے سب سے زِیادہ 8/ ہزار 750/ کروڑ رُوپئے‘ جبکہ محکمۂ داخلہ کو 2001/ کروڑ رُوپئے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اِن مطالبات پر کل اَور پرسوں تبادلۂ خیال کیا جائیگا۔ اِس سے قبل بجٹ اِجلاس کے اِفتتاحی خطاب میں گورنر سی وِدّیا ساگر رائو نے رِیاستی حکومت کی جانب سے اَب تک کیے گئے کاموں کی تفصیلات پیش کی۔ اُنھوں نے کہا کہ رِیاستی حکومت کسانوں کے مفادات کیلئے عہد بستہ ہے۔ کسانوں کے لیے حکومت نے مراٹھواڑہ اَور وِدربھ میں کئی منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ جل یُکت شیوار منصوبہ ایک عوامی تحریک کی شکل اِختیار کرگیا ہے۔ دَریں اَثناء قانون ساز اَسمبلی میں حزب ِ اِختلاف رَہنما رادھا کرشن وِکھے پاٹل نے گورنر کے خطاب پر تنقید کی ۔اُنھوں نے کہا کہ رِیاستی حکومت نے مہاراشٹر کو سخت مایوس کیا ہے۔
رِیاستی بجٹ اِجلاس کے دَوران ایک دِلچسپ پیشِ رَفت ہوئی۔ رِیاستی قانون ساز کونسل ملک کا پہلا بناء کاغذ کے کام کرنے والا یعنی پیپر لیس اَیوان بن گیا ہے۔ بجٹ اِجلاس کے پہلے دِن کل سبھی اَراکین کی میز پر کاغذات کی بجائے ٹچ اِسکرین نوٹ بُک رَکھے گئے تھے۔
اَیوان کے کام کاج کی شروعات ہوتے ہی اِسپیکر رام راجے نمبالکر نے بتایا کہ کمپیوٹرائزیشن پروجیکٹ کے تحت سبھی ممبروں کو ٹچ اِسکرین نوٹ بُک دَستیاب کروائے گئے ہیں۔ اِن نوٹ بُکس میں اِنٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ نمبالکر نے کہا کہ اِن نوٹ بکس میں قانون ساز بورڈ کے روز مرہ کے کام کاج‘ قوانین‘ اَیوان کی مختلف کمیٹیوں کے علاوہ اَراکین کے بھتے‘ موجودہ اَور سابق ممبران کی معلومات کے علاوہ دیگر کئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مرکز نے اِسٹیٹ بینک آف اِنڈیا سے کہا ہے کہ وہ اَپنے اِس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے کہ ایک اپریل سے بچت کھاتوں میں کم اَز کم بیلنس نہ رَکھ پانے والے کھاتے داروں پر جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ ذَرائع کے مطابق حکومت نے پرائیویٹ بینکوں سمیت مختلف بینکوں سے بھی یہ زور دیکر کہا ہیکہ وہ ایک خاص حد کے بعد نقد رَقم کے لین دین اَور ATM مشینوں سے نکالے جانیوالی رَقم پر عائد کیے گئے چارجز پر نظرِ ثانی کرے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کانگریس نے اِسٹیٹ بینک آف اِنڈیا کے بچت کھاتوں میں کم اَز کم بیلنس نہ رَکھ پانے والے صارِفین پر جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے کو غریب مخالف اَور متوسط طبقے کے مخالف قرار دِیا۔ نئی دِلّی میں کل میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی ترجمان اجوئے کمار نے کہا کہ اِس فیصلے سے غریب عوام بُری طرح متاثر ہونگے۔ کمار نے اِلزام لگایا کہ موجودہ حکومت محنت کش متوسط طبقے اَور غریب عوام کو نقصان پہنچانے کی ہرممکن کوشش کررَہی ہے۔ پانچ سال کے وَقفے کے بعد اِسٹیٹ بینک آف اِنڈیا نے اَگلے ماہ کی پہلی تاریخ سے کھاتوں میں کم اَز کم بیلنس نہ رَکھ پانے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کے اَپنے فیصلے کو ایک بار پھر متعارِف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینک نے ATM سمیت دیگر خدمات پر چارجز میں بھی اِضافہ کردِیا ہے۔
ملک کا سب سے بڑا بینک بچت کھاتوں کے صارِفین کو بِلا چارج ایک مہینے میں تین مرتبہ نقد رَقم جمع کرانے کی اِجازت دیگا اَور اُس کے بعد ہر لین دین پر پچاس رُوپئے کا چارج لگے گا جس پر سروِس ٹیکس اَلگ سے ہوگا۔ SBI کے نظرِ ثانی شدہ چارجز کے مطابق کھاتو ںمیں کم اَز کم ماہانہ اَوسط بیلنس قائم نہ رَکھ پانے کی صورت میں 100/ رُوپئے کا چارج لگے گا جس پر سروِس ٹیکس اَلگ سے عائد کیا جائیگا۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
سپریم کورٹ نے کل مرکز اَور RBI سے اِس عذر داری پر جواب مانگا ہے جس میں اِلزام لگایا گیا ہے کہ لوگوں کو منسوخ شدہ کرنسی نوٹ اِس مہینے کے آخر تک جمع کرنے کی اِجازت نہیں دی جارَہی ہے جیسا کہ وَعدہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی والی بینچ نے اِس معاملے کی سماعت آنیوالے جمعہ کو مقرر کی ہے۔ عذرداری میں وَزیرِ اَعظم نریندر مودی کی آٹھ نومبر کی تقریر کا حوالہ دِیا گیا جس میں کرنسی نوٹوں کی منسوخی اَور اس کے بعد RBI کی طرف سے نوٹیفکیشن کے بارے میں اِعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت عوام کچھ مخصوص ضابطوں کی کاروائی پر عمل کرکے RBI کی مخصوص شاخوں میں 31/ دِسمبر 2016 کے بعد بھی منسوخ شدہ کرنسی نوٹ جمع کراسکتے تھے۔ بینچ نے اِس دَلیل کو‘ کہ RBI کے آخری حکم نامے میں صرف اِن اَفراد کو 31/ مارچ تک کی مدت کے دَوران منسوخ شدہ کرنسی نوٹ جمع کرانے کی اِجازت دی گئی ہے جو اِس سے پہلے بھارت سے باہر تھے‘ وَزیرِ اَعظم کے ذَریعہ کرائی گئی یقین دِہانی کی خلاف وَرزی کے مترادِف سمجھا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
دَسویں جماعت کے اِمتحانات کی آج سے شروعات ہورَہی ہے۔ اِس سال رِیاست بھر سے 21/ ہزار 686/ اِسکولوں کے سترہ لاکھ 66/ ہزار 98/ طلبہ اِمتحان میں شرکت کررَہے ہیں۔ اِمتحانات کے لیے چار ہزار 728/ اِمتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ رِیاستی اِمتحانی بورڈ کے صدر گنگا دھر مامنے نے کل پونے میں اَخباری نمائندوں کو یہ اِطلاع دی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اِظہارِ رائے کی آزادی کو برقرار رَکھنا بھارتی دَستور کے لیے ایک چیلنج ہے۔ معروف اَدیب اَور ڈاکٹر بابا صاحب اَمبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ناگناتھ کوتّا پلّے نے اِس خیال کا اِظہار کیا۔ کوتّا پلّے کل یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کی جانب سے ’’اِظہارِ رائے کی آزادی کو دَرپیش چیلنج‘‘ کے عنوان کے تحت منعقدہ قومی سطح کے سمینار سے خطاب کررَہے تھے۔ یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے سینئر پروفیسر جئے دیو ڈوڑے کے اِعزاز میں یہ سمینار منعقد کیا گیا تھا جو 30/ اپریل کو سبکدوش ہورَہے ہیں۔ سمینار میں معروف صحافی ڈاکٹر شری پاد جوشی‘ نشی کانت بھالے رائو اَور صدر شعبہ ڈاکٹر سدھیر گوانے سمیت کئی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
پائپ لائنوں کی مرمت کی وَجہ سے آج صبح 9/ بجے سے اَگلے 24/ گھنٹوں تک اَورنگ آباد شہر کی پانی فراہمی مسدود رَہے گی۔ اِس لیے آنے والے دو دِنوں میں شہر میں پانی فراہم نہیں کیا جاسکے گا۔ اَورنگ آباد میونسپل کارپوریشن اِنتظامیہ نے یہ اِطلاع جاری کی ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
Date - 07 March 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۷؍ مارچ ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
رِیاستی اَسمبلی کے بجٹ اِجلاس کی کل شروعات ہوئی۔ وَزیرِ اَعلیٰ دیویندر پھڑنویس نے قانون ساز اَسمبلی میں گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پیش کی۔ اِسکے بعد اُنھوں نے چار آرڈِیننس اَور تین سرکاری بِل اَیوان میں پیش کیے۔ وَزیرِ مالیات سدھیر منگنٹیوار نے بھی گیارہ ہزار کروڑ رُوپئوں پر مبنی مطالباتی ضمیمے اَیوان میں پیش کیے۔ اِن میں محکمہ توانائی کیلئے سب سے زِیادہ 8/ ہزار 750/ کروڑ رُوپئے‘ جبکہ محکمۂ داخلہ کو 2001/ کروڑ رُوپئے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اِن مطالبات پر کل اَور پرسوں تبادلۂ خیال کیا جائیگا۔ اِس سے قبل بجٹ اِجلاس کے اِفتتاحی خطاب میں گورنر سی وِدّیا ساگر رائو نے رِیاستی حکومت کی جانب سے اَب تک کیے گئے کاموں کی تفصیلات پیش کی۔ اُنھوں نے کہا کہ رِیاستی حکومت کسانوں کے مفادات کیلئے عہد بستہ ہے۔ کسانوں کے لیے حکومت نے مراٹھواڑہ اَور وِدربھ میں کئی منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ جل یُکت شیوار منصوبہ ایک عوامی تحریک کی شکل اِختیار کرگیا ہے۔ دَریں اَثناء قانون ساز اَسمبلی میں حزب ِ اِختلاف رَہنما رادھا کرشن وِکھے پاٹل نے گورنر کے خطاب پر تنقید کی ۔اُنھوں نے کہا کہ رِیاستی حکومت نے مہاراشٹر کو سخت مایوس کیا ہے۔
رِیاستی بجٹ اِجلاس کے دَوران ایک دِلچسپ پیشِ رَفت ہوئی۔ رِیاستی قانون ساز کونسل ملک کا پہلا بناء کاغذ کے کام کرنے والا یعنی پیپر لیس اَیوان بن گیا ہے۔ بجٹ اِجلاس کے پہلے دِن کل سبھی اَراکین کی میز پر کاغذات کی بجائے ٹچ اِسکرین نوٹ بُک رَکھے گئے تھے۔
اَیوان کے کام کاج کی شروعات ہوتے ہی اِسپیکر رام راجے نمبالکر نے بتایا کہ کمپیوٹرائزیشن پروجیکٹ کے تحت سبھی ممبروں کو ٹچ اِسکرین نوٹ بُک دَستیاب کروائے گئے ہیں۔ اِن نوٹ بُکس میں اِنٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ نمبالکر نے کہا کہ اِن نوٹ بکس میں قانون ساز بورڈ کے روز مرہ کے کام کاج‘ قوانین‘ اَیوان کی مختلف کمیٹیوں کے علاوہ اَراکین کے بھتے‘ موجودہ اَور سابق ممبران کی معلومات کے علاوہ دیگر کئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
مرکز نے اِسٹیٹ بینک آف اِنڈیا سے کہا ہے کہ وہ اَپنے اِس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے کہ ایک اپریل سے بچت کھاتوں میں کم اَز کم بیلنس نہ رَکھ پانے والے کھاتے داروں پر جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ ذَرائع کے مطابق حکومت نے پرائیویٹ بینکوں سمیت مختلف بینکوں سے بھی یہ زور دیکر کہا ہیکہ وہ ایک خاص حد کے بعد نقد رَقم کے لین دین اَور ATM مشینوں سے نکالے جانیوالی رَقم پر عائد کیے گئے چارجز پر نظرِ ثانی کرے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کانگریس نے اِسٹیٹ بینک آف اِنڈیا کے بچت کھاتوں میں کم اَز کم بیلنس نہ رَکھ پانے والے صارِفین پر جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے کو غریب مخالف اَور متوسط طبقے کے مخالف قرار دِیا۔ نئی دِلّی میں کل میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی ترجمان اجوئے کمار نے کہا کہ اِس فیصلے سے غریب عوام بُری طرح متاثر ہونگے۔ کمار نے اِلزام لگایا کہ موجودہ حکومت محنت کش متوسط طبقے اَور غریب عوام کو نقصان پہنچانے کی ہرممکن کوشش کررَہی ہے۔ پانچ سال کے وَقفے کے بعد اِسٹیٹ بینک آف اِنڈیا نے اَگلے ماہ کی پہلی تاریخ سے کھاتوں میں کم اَز کم بیلنس نہ رَکھ پانے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کے اَپنے فیصلے کو ایک بار پھر متعارِف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینک نے ATM سمیت دیگر خدمات پر چارجز میں بھی اِضافہ کردِیا ہے۔
ملک کا سب سے بڑا بینک بچت کھاتوں کے صارِفین کو بِلا چارج ایک مہینے میں تین مرتبہ نقد رَقم جمع کرانے کی اِجازت دیگا اَور اُس کے بعد ہر لین دین پر پچاس رُوپئے کا چارج لگے گا جس پر سروِس ٹیکس اَلگ سے ہوگا۔ SBI کے نظرِ ثانی شدہ چارجز کے مطابق کھاتو ںمیں کم اَز کم ماہانہ اَوسط بیلنس قائم نہ رَکھ پانے کی صورت میں 100/ رُوپئے کا چارج لگے گا جس پر سروِس ٹیکس اَلگ سے عائد کیا جائیگا۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
سپریم کورٹ نے کل مرکز اَور RBI سے اِس عذر داری پر جواب مانگا ہے جس میں اِلزام لگایا گیا ہے کہ لوگوں کو منسوخ شدہ کرنسی نوٹ اِس مہینے کے آخر تک جمع کرنے کی اِجازت نہیں دی جارَہی ہے جیسا کہ وَعدہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی والی بینچ نے اِس معاملے کی سماعت آنیوالے جمعہ کو مقرر کی ہے۔ عذرداری میں وَزیرِ اَعظم نریندر مودی کی آٹھ نومبر کی تقریر کا حوالہ دِیا گیا جس میں کرنسی نوٹوں کی منسوخی اَور اس کے بعد RBI کی طرف سے نوٹیفکیشن کے بارے میں اِعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت عوام کچھ مخصوص ضابطوں کی کاروائی پر عمل کرکے RBI کی مخصوص شاخوں میں 31/ دِسمبر 2016 کے بعد بھی منسوخ شدہ کرنسی نوٹ جمع کراسکتے تھے۔ بینچ نے اِس دَلیل کو‘ کہ RBI کے آخری حکم نامے میں صرف اِن اَفراد کو 31/ مارچ تک کی مدت کے دَوران منسوخ شدہ کرنسی نوٹ جمع کرانے کی اِجازت دی گئی ہے جو اِس سے پہلے بھارت سے باہر تھے‘ وَزیرِ اَعظم کے ذَریعہ کرائی گئی یقین دِہانی کی خلاف وَرزی کے مترادِف سمجھا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
دَسویں جماعت کے اِمتحانات کی آج سے شروعات ہورَہی ہے۔ اِس سال رِیاست بھر سے 21/ ہزار 686/ اِسکولوں کے سترہ لاکھ 66/ ہزار 98/ طلبہ اِمتحان میں شرکت کررَہے ہیں۔ اِمتحانات کے لیے چار ہزار 728/ اِمتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ رِیاستی اِمتحانی بورڈ کے صدر گنگا دھر مامنے نے کل پونے میں اَخباری نمائندوں کو یہ اِطلاع دی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
اِظہارِ رائے کی آزادی کو برقرار رَکھنا بھارتی دَستور کے لیے ایک چیلنج ہے۔ معروف اَدیب اَور ڈاکٹر بابا صاحب اَمبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ناگناتھ کوتّا پلّے نے اِس خیال کا اِظہار کیا۔ کوتّا پلّے کل یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کی جانب سے ’’اِظہارِ رائے کی آزادی کو دَرپیش چیلنج‘‘ کے عنوان کے تحت منعقدہ قومی سطح کے سمینار سے خطاب کررَہے تھے۔ یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے سینئر پروفیسر جئے دیو ڈوڑے کے اِعزاز میں یہ سمینار منعقد کیا گیا تھا جو 30/ اپریل کو سبکدوش ہورَہے ہیں۔ سمینار میں معروف صحافی ڈاکٹر شری پاد جوشی‘ نشی کانت بھالے رائو اَور صدر شعبہ ڈاکٹر سدھیر گوانے سمیت کئی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
پائپ لائنوں کی مرمت کی وَجہ سے آج صبح 9/ بجے سے اَگلے 24/ گھنٹوں تک اَورنگ آباد شہر کی پانی فراہمی مسدود رَہے گی۔ اِس لیے آنے والے دو دِنوں میں شہر میں پانی فراہم نہیں کیا جاسکے گا۔ اَورنگ آباد میونسپل کارپوریشن اِنتظامیہ نے یہ اِطلاع جاری کی ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
No comments:
Post a Comment