Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad, Date: 02.02.2018 ,Time:8.40-8.45 am
Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad.
Date - 02 February 2018
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۲؍فروری ۲۰۱۸
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
مرکزی وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے سال 2018-19 کا سالانہ مالیاتی بجٹ کل لوک سبھا میں پیش کیا۔ اس بجٹ میں تعلیم‘ زراعت اور صحت کے شعبوں کی ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ بجٹ میں نوکری پیشہ طبقے کیلئے انکم ٹیکس کے ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا ۔ تاہم اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن متعارف کروایا گیا ہے اور اسے 40/ ہزار روپئے مقرر کیا گیا ۔ بزرگ شہریوں کیلئے بینکوں اور ڈاک خانوں میں مختلف منصوبوںکے تحت جمع رقم پر سود سے حاصل ہونے والے 50/ ہزار روپئے کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ۔ سالانہ 250/ کروڑ روپئے تک کا کاروبار کرنے والی چھوٹی صنعتوں کو 25/ فیصد اور 250/ کروڑ سے زائد ٹرن اوور رکھنے والی کمپنیوں پر 30/ فیصد صنعتی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز رکھی گئی ۔ صنعتوں کے لیے علیحدہ خصوصی شناختی نمبر متعارف کروانے کی تجویز بھی ہے۔ غیر سرمایہ کاری کا نشانہ 7/ ہزار کروڑ روپئے سے بڑھاکر 80/ ہزار کروڑ روپئے مقرر کیا گیا ۔ وزیرِ خزانہ نے زرعی پیداوار کی کم از کم امدادی قیمت ڈیڑھ گنا کرنے‘42/ میگا فوڈ پروجیکٹ شروع کرنے اور فوڈ پروسیسنگ صنعت کیلئے 1400/ کروڑ روپئے مختص کرنے کی تجویزبھی رکھی۔ تعلیمی شعبے میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے رائز پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کیلئے ایک لاکھ کروڑ روپئے مختص کیے گئے ۔ طرزِ تعلیم مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کیلئے کلاس رومز میں ڈیجیٹل بورڈ لگانے کی تجویز ہے۔ درجِ فہرست ذاتوں کی بہبود کیلئے 56/ ہزار 319/ کروڑ روپئے اور درجِ فہرست قبائل کیلئے 39/ ہزار 135/ کروڑ روپئے مختص کرنے کی تجویز بھی رکھی گئی ۔ قومی تربیتی اسکیم کے تحت سن دو ہزار 20 تک 50/ لاکھ طلبہ کو اسکالر شپ دینے کی تجویز بھی اس بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ نئی صحتِ عامّہ اسکیم کے تحت ہر برس 10 / کروڑ غریب خاندانوں کو علاج کیلئے فی کنبہ 5/ لاکھ روپئے دینے کی سفارش کی گئی ۔ ملک بھر میں 24/ نئے میڈیکل کالج و اسپتال قائم کیے جائیں گے اور طبّی مراکز کیلئے 1200/ کروڑ روپئے مختص کیے گئے ۔ تپِ دِق یعنی TB کے مریضوں کو مقوی غذا فراہم کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کی غرض سے ماہانہ 500/ روپئے دینے کی تجویز ہے اور اس کے لیے 600/ کروڑ روپئے اس بجٹ میں رکھے گئے ۔
ریلوے کی ترقی کیلئے ایک لاکھ 48/ ہزار 528/ کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران 3600/ کلو میٹر طویل ٹریک تعمیر کیا جائے گا۔ 600/ ریلوے اسٹیشنوں کو وائی فائی اور CCTV سے لیس کرکے جدید سہولیات فراہم کی جائینگی۔ ممبئی مضافاتی ریلوے خدمات میں 90/ کلو میٹر ریلوے لائن کو دوہرا کرنے کیلئے 11/ ہزار کروڑ روپئے بجٹ میں رکھے گئے۔ اس کے علاوہ ہوا بازی شعبے میں 56/ نئی طیرانگاہیں اور 31/ہیلی پیڈ تیار کیے جائیں گے۔
دیہی انفراسٹراکچر کیلئے 14.34/ لاکھ کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں جس میں 8/ کروڑ خواتین کو LPG کے مفت کنکشن اور 4/ کروڑ غریب خاندانوں کو بجلی کے مفت کنکشن دئیے جائیں گے۔
سوچھ بھارت مشن کے تحت ملک بھر میں دو کروڑ بیت الخلاء تعمیر ہونگے۔ اس کے علاوہ صدرِ جمہوریہ کی تنخواہ میں اضافہ کرکے اسے 5/ لاکھ روپئے‘ نائب صدر جمہوریہ کی تنخواہ 4/ لاکھ روپئے اور گورنروں کی تنخواہیں ساڑھے تین لاکھ روپئے کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
صحت اور تعلیم کے شعبے کیلئے عائد سرچارج کو ایک فیصد سے بڑھا کر 4/ فیصد کرنے کی تجویز بھی وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی کو 5/ فیصد سے بڑھا کر 20/ فیصد کردیا گیا ہے۔ جس کے باعث درآمد کیے جانے والی اشیائ‘ خوردنی تیل‘ سگریٹ‘ لیپ ٹاپ‘ لکژری کاریں‘ موبائل‘ مواصلاتی آلات‘ مصنوعی زیورات‘ فرنیچر گھڑیاں‘ میک اَپ کا سامان اورریشمی کپڑے مہنگے ہوجائیں گے۔ جبکہ سولار پینل‘ خشک میوہ جات‘ گاڑیوں کے CNG کِٹ وغیرہ سستے ہونگے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
بی جے پی حکومت کے آخری سالانہ بجٹ کو وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ترقی حامی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بجٹ میں تجارت اور عام آدمی کی زندگی کو مزید آسان بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
دریں اثناء حزبِ اختلاف نے اس بجٹ کو گمراہ کُن قرار دیا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر اشوک چوہان نے کہا ہے کہ اس بجٹ میں کسانوں اور عام آدمی کیلئے کوئی خصوصی راحت نہیں ہے۔ سی پی ایم قائد سیتا رام یچوری نے کہا ہے کہ اس بجٹ کا حقیقت سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
عدالت ِ عظمیٰ کے مختلف ججوں میں مقدمات کی تقسیم کیلئے اب روسٹر سسٹم شروع کیا جائیگا۔ آئندہ مفادِ عامّہ کی تمام درخواستوں کی سماعت اب چیف جسٹس دیپک مشرا کریں گے۔ یہ اطلاع عدالت ِ عظمیٰ کی ویب سائٹ پر دی گئی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ میں بھارت نے 6/ وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ 6/ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں کل جنوبی افریقہ نے پہلے بلّے بازی کرتے ہوئے مقررہ 50/ اووروں میں 269/ رن بنائے ۔جواب میں مطلوبہ ہدف بھارت کی ٹیم نے 4/ وکٹ پر حاصل کرلیا۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
No comments:
Post a Comment