Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad, Date: 13.07.2017, Time : 8.40 to 8.45 AM
Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad.
Date - 13 July 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۱۳؍ جولائی ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
وزیرِ زراعت پانڈورنگ پھُنڈکر نے کہا ہے کہ ریاست میں ناکافی بارش کے باعث متعدد علاقوں میں دوبارہ تخم ریزی کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے اور آئندہ دو تین دنوں میں ضروری بارش نہ ہونے کی صورت میں تقریباً پندرہ فیصد رقبے میں دوبارہ تخم ریزی لازمی ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ ماہِ جون میں بہتر بارشوں کے باعث تقریباً 40/ فیصد کاشتکاروں نے تخم ریزی کی تھی۔ وزیرِ موصوف نے بتایا کہ دوبارہ تخم ریزی کیلئے حکومت کی جانب سے بیجوں کا انتظام کیا گیا ہے اور محکمۂ زراعت کے افسران نے ان کھیتوں کے پنچنامے شروع کردئیے ہیں جہاں تخم ریزی کی جاچکی تھی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کسی بھی جرم میں سزا یافتہ رُکنِ پارلیمنٹ یا رُکنِ اسمبلی کے الیکشن لڑنے پر تاحیات پابندی لگائے جانے کے معاملے میں انتخابی کمیشن کی جانب سے کوئی مؤقف اختیار نہ کرنے پر عدالت ِ عظمیٰ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے دائرۂ اختیار میں ہے اس لیے عدالت ِ عظمیٰ اس سلسلے میں کوئی احکامات جاری نہیں کرسکتی۔ منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت اور عمر کی پابندی لگائے جانے کی استدعا کرنے والی ایک درخواست پر سماعت کے دوران عدالت ِ عظمیٰ نے یہ ناراضگی ظاہر کی۔ اس درخواست پر آئندہ سماعت 19 / تاریخ کو ہوگی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
آئندہ 24/ تاریخ سے شروع ہونے والے ریاستی حکومت کے مانسون اجلاس میں 4/ حکمناموں‘ 5 / مجوزہ حکمناموں‘ 7/ زیرِ التواء بلوں اور 13/ نئے بلوں سمیت دیگر چند سفارشات ایوان میں پیش کیے جانے کے امکانات ہیں۔ یہ اطلاع پارلیمانی اُمور کے وزیر گریش باپٹ نے دی۔ انھوں نے بتایا کہ تین ہفتے طویل اس مانسون اجلاس میں 15/ دن کا کام کاج متوقع ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
عدالت ِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ آدھار کارڈ سے متعلق تمام اُمور پر پانچ ججوں کی آئینی بنچ سماعت کریگی۔ مختلف فلاحی اسکیموں کے لیے آدھار نمبر لازمی کیے جانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں پر سماعت یہ آئینی بنچ آئندہ18/ تاریخ کو کریگی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ممبئی عدالت ِ عالیہ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ جیلوں اور عدالت کے درمیان ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت صرف شروع نہ کریں بلکہ اسے اس نوعیت سے فعال بنایا جائے کہ ضرورت پڑنے پر اس سہولت کا استعمال بھی ہوسکے۔ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کے مقدمے میں ملزم شیخ نعیم کو سلامتی کی بنیادوں پر عدالت میں پیش نہ کیے جانے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت پر سماعت کے دوران عدالت نے یہ ریمارکس دئیے۔ ریاست میں 583/ مقامات پر اس قسم کی سہولت شروع کی گئی ہے لیکن صرف 63/ عدالتو ںمیں ہی یہ قابلِ استعمال ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ دو دِنوں میں اپنا مؤقف پیش کرے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ذات پنچایت مخالف قانون سے متعلق حکمنامہ کل ریاستی حکومت نے جاری کردیا۔ یہ قانون 4/جولائی سے ریاست میں نافذ العمل ہوچکا ہے۔ ذات پنچایت کے ذریعے کسی بھی شخص کا سماجی بائیکاٹ کرنے پر اس قانون کے تحت اس کے ذمہ داروں کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپئے جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سماجی مقاطعے کے واقعات روکنے کے لیے افسران کا تقرر کیا گیا ہے اور ذات پنچایتوں کے انعقاد کو روکنے کا اختیار ضلع کلکٹر کو دیا گیا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
شیوسینا سربراہ اُدّھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کی جانب سے کسانوں کی ٹھوس پشت پناہی کے سبب ہی حکومت کو کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کل دھولیہ مارکیٹنگ فیڈریشن کے احاطے میں منعقدہ ایک اجلاس سے وہ خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ شیوسینا غریبوں کی آواز کی حیثیت سے حکومت میں شامل ہے۔ اُدّھو ٹھاکرے نے مطالبہ کیا کہ جن 36/ لاکھ کسانوں کے قرضے معاف کیے گئے ہیں ان کی فہرست جاری کی جائے۔ کل جلگائوں ضلع کے پاڑدھی میں کسانوں سے گفت و شنید کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ حکومت کے نہیں بلکہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے پابند ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ کسانوں کے قرض معاف کرنے کے سلسلے میں شیوسینا دوہرا کردار ادا کررہی ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور رُکنِ پارلیمنٹ اشوک چوہان نے کہا ہے کہ تمام کسانوں کی یکساں اور مکمل قرضوں کی معافی تک کانگریس کی تحریک جاری رہے گی۔ حکومت کی جانب سے مشروط قرض معافی کے اعلان کے خلاف کانگریس کی جانب سے ’’میرا قرض معاف نہیں ہوا‘‘ کے عنوان سے ریاست گیر احتجاج شروع کیا ہے۔ جس کا آغاز کل بلڈھانہ سے کیا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اشوک چوہان نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
Date - 13 July 2017
Time 8.40am to 8.45am
آکاشوانی اَورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ : ۱۳؍ جولائی ۲۰۱۷
وَقت : صبح ۴۰: ۸ - ۴۵ :۸
***********************
وزیرِ زراعت پانڈورنگ پھُنڈکر نے کہا ہے کہ ریاست میں ناکافی بارش کے باعث متعدد علاقوں میں دوبارہ تخم ریزی کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے اور آئندہ دو تین دنوں میں ضروری بارش نہ ہونے کی صورت میں تقریباً پندرہ فیصد رقبے میں دوبارہ تخم ریزی لازمی ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ ماہِ جون میں بہتر بارشوں کے باعث تقریباً 40/ فیصد کاشتکاروں نے تخم ریزی کی تھی۔ وزیرِ موصوف نے بتایا کہ دوبارہ تخم ریزی کیلئے حکومت کی جانب سے بیجوں کا انتظام کیا گیا ہے اور محکمۂ زراعت کے افسران نے ان کھیتوں کے پنچنامے شروع کردئیے ہیں جہاں تخم ریزی کی جاچکی تھی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کسی بھی جرم میں سزا یافتہ رُکنِ پارلیمنٹ یا رُکنِ اسمبلی کے الیکشن لڑنے پر تاحیات پابندی لگائے جانے کے معاملے میں انتخابی کمیشن کی جانب سے کوئی مؤقف اختیار نہ کرنے پر عدالت ِ عظمیٰ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے دائرۂ اختیار میں ہے اس لیے عدالت ِ عظمیٰ اس سلسلے میں کوئی احکامات جاری نہیں کرسکتی۔ منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت اور عمر کی پابندی لگائے جانے کی استدعا کرنے والی ایک درخواست پر سماعت کے دوران عدالت ِ عظمیٰ نے یہ ناراضگی ظاہر کی۔ اس درخواست پر آئندہ سماعت 19 / تاریخ کو ہوگی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
آئندہ 24/ تاریخ سے شروع ہونے والے ریاستی حکومت کے مانسون اجلاس میں 4/ حکمناموں‘ 5 / مجوزہ حکمناموں‘ 7/ زیرِ التواء بلوں اور 13/ نئے بلوں سمیت دیگر چند سفارشات ایوان میں پیش کیے جانے کے امکانات ہیں۔ یہ اطلاع پارلیمانی اُمور کے وزیر گریش باپٹ نے دی۔ انھوں نے بتایا کہ تین ہفتے طویل اس مانسون اجلاس میں 15/ دن کا کام کاج متوقع ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
عدالت ِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ آدھار کارڈ سے متعلق تمام اُمور پر پانچ ججوں کی آئینی بنچ سماعت کریگی۔ مختلف فلاحی اسکیموں کے لیے آدھار نمبر لازمی کیے جانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں پر سماعت یہ آئینی بنچ آئندہ18/ تاریخ کو کریگی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ممبئی عدالت ِ عالیہ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ جیلوں اور عدالت کے درمیان ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت صرف شروع نہ کریں بلکہ اسے اس نوعیت سے فعال بنایا جائے کہ ضرورت پڑنے پر اس سہولت کا استعمال بھی ہوسکے۔ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کے مقدمے میں ملزم شیخ نعیم کو سلامتی کی بنیادوں پر عدالت میں پیش نہ کیے جانے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت پر سماعت کے دوران عدالت نے یہ ریمارکس دئیے۔ ریاست میں 583/ مقامات پر اس قسم کی سہولت شروع کی گئی ہے لیکن صرف 63/ عدالتو ںمیں ہی یہ قابلِ استعمال ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ دو دِنوں میں اپنا مؤقف پیش کرے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
ذات پنچایت مخالف قانون سے متعلق حکمنامہ کل ریاستی حکومت نے جاری کردیا۔ یہ قانون 4/جولائی سے ریاست میں نافذ العمل ہوچکا ہے۔ ذات پنچایت کے ذریعے کسی بھی شخص کا سماجی بائیکاٹ کرنے پر اس قانون کے تحت اس کے ذمہ داروں کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپئے جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سماجی مقاطعے کے واقعات روکنے کے لیے افسران کا تقرر کیا گیا ہے اور ذات پنچایتوں کے انعقاد کو روکنے کا اختیار ضلع کلکٹر کو دیا گیا ہے۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
شیوسینا سربراہ اُدّھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کی جانب سے کسانوں کی ٹھوس پشت پناہی کے سبب ہی حکومت کو کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کل دھولیہ مارکیٹنگ فیڈریشن کے احاطے میں منعقدہ ایک اجلاس سے وہ خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ شیوسینا غریبوں کی آواز کی حیثیت سے حکومت میں شامل ہے۔ اُدّھو ٹھاکرے نے مطالبہ کیا کہ جن 36/ لاکھ کسانوں کے قرضے معاف کیے گئے ہیں ان کی فہرست جاری کی جائے۔ کل جلگائوں ضلع کے پاڑدھی میں کسانوں سے گفت و شنید کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ حکومت کے نہیں بلکہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے پابند ہیں۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ کسانوں کے قرض معاف کرنے کے سلسلے میں شیوسینا دوہرا کردار ادا کررہی ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور رُکنِ پارلیمنٹ اشوک چوہان نے کہا ہے کہ تمام کسانوں کی یکساں اور مکمل قرضوں کی معافی تک کانگریس کی تحریک جاری رہے گی۔ حکومت کی جانب سے مشروط قرض معافی کے اعلان کے خلاف کانگریس کی جانب سے ’’میرا قرض معاف نہیں ہوا‘‘ کے عنوان سے ریاست گیر احتجاج شروع کیا ہے۔ جس کا آغاز کل بلڈھانہ سے کیا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اشوک چوہان نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کی۔
<<>><<>><<>><<>><<>><<>>
No comments:
Post a Comment