Regional Urdu Text Bulletin, Chatrapati Sambhajinagar
Date: 05 June-2024
Time: 09:00-09:10 am
آکاشوانی چھترپتی سمبھاجی نگر
علاقائی خبریں
تاریخ: ۵/جون ۴۲۰۲ء
وقت: ۰۱:۹-۰۰:۹
***** ***** *****
::::: سرخیاں::::::
پیش ہے خاص خبروں کی سرخیاں:
٭ لوک سبھا انتخابات میں 292 نشستوں کے ساتھ قومی جمہوری اتحاد NDA کو اکثریت؛ انڈیا آگھاڑی کی 233 نشستوں پر فتح۔
٭ مدھیہ پردیش‘ ہماچل پردیش‘ اُتراکھنڈ اور دہلی سمیت سات ریاستوں میں بی جے پی کی اور منی پور و چندی گڑھ سمیت پانچ ریاستوں میں کانگریس کی شاندار کامیابی۔
٭ مہاراشٹر میں مہاوِکاس آگھاڑی کو 30 اور مہایوتی کو 17 نشستیں؛ 13 سیٹوں کے ساتھ کانگریس سب سے بڑی جماعت۔
٭ اورنگ آباد سے سندیپان بھومرے کامیاب‘ بیڑ سے پنکجا منڈے اور جالنہ سے راؤ صاحب دانوے کو شکست۔
اور۔۔۔٭ ٹی- ٹوئنٹی عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں آج بھارت کا افتتاحی میچ آئر لینڈ سے۔
***** ***** *****
اب خبریں تفصیل سے:
لوک سبھا انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد نے اکثریت حاصل کرلی ہے۔ ملک بھر میں لوک سبھا کی کُل 543 نشستوں میں سے بی جے پی کی زیرِ قیادت قومی جمہوری اتحاد NDA نے 292‘ جبکہ کانگریس کی قیادت میں انڈیا آگھاڑی نے 233 حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے NDA پر مسلسل تیسری بار اعتماد کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ گذشتہ انتخابات کی بہ نسبت اس الیکشن میں بی جے پی سمیت NDA کو کم نشستیں ملیں‘ جبکہ کانگریس سمیت حزبِ اختلاف نے گذشتہ انتخابات کے مقابلے اس بار نہایت شاندار کارکردگی انجام دی۔ کانگریس قائد راہل گاندھی نے رائے بریلی اور کیرالا کے وائناڑ میں بڑی برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ کیرالا میں پہلی بار بی جے پی ایک نشست جیتنے میں کامیاب رہی۔ مدھیہ پردیش‘ ہماچل پردیش‘ اُتراکھنڈ‘ دہلی، تریپورہ‘ اروناچل پردیش اور انڈمان میں بی جے پی نے تنہاء ہی شاندار کامیابی حاصل کی۔ تاہم پنجاب اور تملناڈو سے بی جے پی ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔
آندھرا پردیش میں تیلگو دیشم پارٹی کو 16‘ بی جے پی کو تین‘ آسام میں بی جے پی کو 9‘ کانگریس کو تین‘ چھتیس گڑھ بی جے پی 10‘ کانگریس ایک‘ ہریانہ بی جے پی اور کانگریس پانچ- پانچ‘ جھارکھنڈ بی جے پی 8‘ جے ایم ایم تین‘ کانگریس دو‘ اُڑیسہ بی جے پی 19‘ کانگریس اور بیجو جنتا دَل ایک ایک‘ کرناٹک بی جے پی 17‘ کانگریس 9‘ جنتا دَل ایس دو‘ تلنگانہ بی جے پی اور کانگریس 8-8‘ ایم آئی ایم ایک‘ راجستھان بی جے پی 14‘ کانگریس 8‘ گجرات بی جے پی 25‘ کانگریس ایک‘ بہار بی جے پی اور متحدہ جنتا دَل 12-12‘ LJP پانچ‘ کانگریس 3‘ RJD چار‘ اُترپردیش سماج وادی پارٹی 37‘ بی جے پی 33‘ کانگریس 6‘ اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس 29‘ کانگریس ایک اور بی جے پی 12 حلقوں میں کامیاب ہوئی۔ کشمیر میں نیشنل کانفرنس دو‘ بی جے پی دو‘ دادرنگر حویلی بی جے پی ایک‘ آزاد ایک‘ گوا میں بی جے پی اور کانگریس نے ایک- ایک حلقے میں کامیابی حاصل کی۔ تملناڈو میں ڈی ایم کے نے 22‘ کانگریس 9‘ سی پی آئی اور سی پی آئی ایم نے دو-دو نشستیں حاصل کیں۔ کانگریس نے کیرالہ میں سب سے زیادہ 14‘ اور پنجاب میں سات نشستوں پر‘ منی پور کی دونوں نشستیں‘ چندی گڑھ‘ لکش دیپ‘ ناگالینڈ اور پڈوچیری کی ایک-ایک نشست بھی جیت لی۔ عام آدمی پارٹی کو پنجاب میں صرف تین نشستوں پر ہی اکتفاء کرنا پڑا۔
بی جے پی کے سرکردہ قائدین نریندر مودی‘ امیت شاہ‘ شیواجی چوہان‘ جیوترآدتیہ سندھیا‘ انوراگ سنگھ ٹھاکر، کنگنا راناوت‘ ہیما مالنی وغیرہ نے کامیابی حاصل کی۔ تاہم اسمرتی ایرانی‘ مینکا گاندھی‘ بھارتی پوار‘ کپل پاٹل اور راؤ صاحب دانوے جیسے مرکزی وزراء کے علاوہ سدھیر منگنٹیوار‘ سجئے وِکھے پاٹل‘ نونیت رانا‘ اُجول نکم جیسے بڑے رہنماؤں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
***** ***** *****
مہاراشٹر میں لوک سبھا کی 48 نشستوں میں سے مہاوِکاس آگھاڑی نے 30 اور مہایوتی صرف 17 نشستیں جیت پائی۔ 2019 کے انتخابات میں بی جے پی- شیوسینا اتحاد نے ریاست میں 48 میں سے 41 نشستیں حاصل کی تھیں۔ جس میں بی جے پی کے 23 اور شیوسینا کے 18 ارکان شامل تھے۔ NCP کو چار اور کانگریس کو صرف ایک نشست ملی تھی۔ پارٹی میں تقسیم کے بعد 13 ارکانِ ایکناتھ شندے کے ساتھ چلے گئے تھے۔ اس بار ایکناتھ شندے کے سات رفقاء ہی جیت سکے۔ راشٹروادی کانگریس سے سنیل تٹکرے علیحدہ ہوکر اجیت پوار کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ تٹکرے اس بار بھی اپنی نشست بچانے میں کامیاب رہے۔ گذشتہ انتخابات میں صرف ایک نشست حاصل کرنے والی کانگریس نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اس بار ریاست کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ پارٹی میں عمودی تقسیم کے بعد اُدّھو ٹھاکرے کے ساتھ پانچ ارکان پارلیمان بچے تھے۔ یہ تعداد اب 9 ہوگئی۔ شرد پوار کے ساتھ تین ارکانِ پارلیمان باقی بچے تھے، یہ تعداد اب بڑھ کر آٹھ ہوگئی۔
ودربھ میں ناگپور سے نتن گڈکری‘ رام ٹیک سے شیام کمار بروے‘ بھنڈارا- گوندیا حلقے سے پرشانت پڈوڑے‘ چندر پور سے پرتیبھا دھانورکر‘ ایوت محل- واشم سے سنجے دیشمکھ، گڈچرولی- چمور سے نامدیو کرسان‘ بلڈانہ سے پرتاپ جادھو اور آکولہ سے انوپ دھوترے کامیاب ہوئے۔ شولاپور حلقے سے پرنیتی شندے‘ ماڈھا سے دھیریہ شیل موہیتے، سانگلی سے آزاد اُمیدوار وشال پاٹل، ساتارا سے اُدین راجے بھونسلے نے کامیابی حاصل کی۔
***** ***** *****
آندھرا پردیش اور اُڑیسہ اسمبلی انتخابات کیلئے بھی ووٹوں کی گنتی کل عمل میں آئی۔ آندھرا پردیش اسمبلی کی کُل 175 نشستوں میں سے تلگو دیشم پارٹی کے 135‘ وائی ایس آر کانگریس کے 11 اور بی جے پی کے آٹھ امیدوار کامیاب ہوئے۔
اُڑیسہ اسمبلی کی کُل 147 نشستوں میں سے بی جے پی کو 74‘ بیجو جنتا دل کو 51 اور کانگریس کو 14 نشستیں ملیں۔
***** ***** *****
مراٹھواڑہ کی آٹھ میں سے سات نشستوں پر مہا وِکاس آگھاڑی کے امیدواروں نے کامیاب حاصل کی اور محض ایک نشست مہایوتی کے حصے میں آئی۔ اورنگ آباد لوک سبھا حلقے سے شیوسینا مہایوتی کے امیدوار سندیپان بھومرے نے ایم آئی ایم کے امتیاز جلیل کو ایک لاکھ 33 ہزار 557 ووٹوں سے شکست دی۔ بھومرے کو چار لاکھ 74 ہزار 434 ووٹ ملے، جبکہ امتیاز جلیل تین لاکھ 40 ہزار 877 ووٹ حاصل کرسکے۔ مہاوِکاس آگھاڑی کے چندر کانت کھیرے کو دو لاکھ 91 ہزار 870 اور ونچیت بہوجن آگھاڑی کے افسر خان کو 69 ہزار سے زائد ووٹ ملے۔
بیڑ لوک سبھا حلقے سے بی جے پی مہایوتی کی اُمیدوار پنکجا منڈے اور مہا وِکاس آگھاڑی کے بجرنگ سونونے میں سخت مقابلہ ہوا اور سونونے نے 6 ہزار 553 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
جالنہ لوک سبھا حلقے میں کانگریس کے کلیان کاڑے نے موجودہ مرکزی وزیر راؤ صاحب دانوے کو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔
پربھنی میں مہاوِکاس آگھاڑی کے سنجے جادھو نے ایک لاکھ سے زائد ووٹوں سے فتح حاصل کرکے اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔
ناندیڑ حلقے میں کانگریس کے مہا وِکاس آگھاڑی کے امیدوار وسنت راؤ چوہان نے بی جے پی کے رکنِ پارلیمان پرتاپ پاٹل چکھلیکر کو 59 ہزار 442 ووٹوں سے شکست دی۔
لاتور سے کانگریس شیواجی کاگڑے اور عثمان آباد سے مہا وِکاس آگھاڑی کے اوم پرکاش راجے نمباڑکر نے فتح حاصل کی۔
***** ***** *****
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ رائے دہندگان نے مسلسل تیسری بار NDA پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور یہ ہندوستانی تاریخ کا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی تیسری بار وزیرِ اعظم بن رہے ہیں، اس لیے وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ کل ممبئی میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اُنکی جانب سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں وہ اس کا جائزہ لیں گے۔
راشٹروادی کانگریس کے سربراہ نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار نے کہا ہے کہ راشٹروادی کانگریس اور مہایوتی کو ریاست میں توقع کے مطابق کامیابی نہیں مل سکی، لیکن مستقبل میں یہ تصویر بدلنے کی طاقت ہم رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی انتخابی نتائج کا بغور جائزہ لے گی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ کانگریس رہنماء راہل گاندھی کی جانب سے ملک بھر میں بھارت جوڑو یاترا نکالے جانے کے باعث تبدیلی کی لہر پیدا ہوئی ہے۔ وہ کانگریس کی کارکردگی پر اپنے تاثرات کا اظہار کررہے تھے۔
***** ***** *****
عالمی کپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں آج بھارت کا افتتاحی میچ آئر لینڈ کے خلاف ہوگا۔ نیویارک میں ہونے والا یہ میچ ہندوستانی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے شروع ہوگا۔ کل اس ٹورنامنٹ میں نیدر لینڈ نے نیپال کو چھ وِکٹ سے اور افغانستان نے یوگانڈن کو 125 رنوں سے شکست دی۔
***** ***** *****
::::: سرخیاں::::::
آخرمیں اس بلیٹن کی خاص خبریں ایک بار پھر:
٭ لوک سبھا انتخابات میں 292 نشستوں کے ساتھ قومی جمہوری اتحاد NDA کو اکثریت؛ انڈیا آگھاڑی کی 233 نشستوں پر فتح۔
٭ مدھیہ پردیش‘ ہماچل پردیش‘ اُتراکھنڈ اور دہلی سمیت سات ریاستوں میں بی جے پی کی اور منی پور و چندی گڑھ سمیت پانچ ریاستوں میں کانگریس کی شاندار کامیابی۔
٭ مہاراشٹر میں مہاوِکاس آگھاڑی کو 30 اور مہایوتی کو 17 نشستیں؛ 13 سیٹوں کے ساتھ کانگریس سب سے بڑی جماعت۔
٭ اورنگ آباد سے سندیپان بھومرے کامیاب‘ بیڑ سے پنکجا منڈے اور جالنہ سے راؤ صاحب دانوے کو شکست۔
اور۔۔۔٭ ٹی- ٹوئنٹی عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں آج بھارت کا افتتاحی میچ آئر لینڈ سے۔
***** ***** *****
No comments:
Post a Comment