Regional Urdu Text Bulletin, Aurangabad.
Date: 02 February-2023
Time: 09:00-09:10 am
آکاشوانی اورنگ آباد
علاقائی خبریں
تاریخ: ۲/فروری ۳۲۰۲ء
وقت: ۰۱:۹-۰۰:۹
***** ***** *****
::::: سرخیاں::::::
پیش ہے خاص خبروں کی سرخیاں:
٭ 2023-24 کیلئے 45 لاکھ کروڑ روپئے پر مشتمل سالانہ عام مالیاتی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش؛ سات ترجیحی مجموعے پر مبنی بجٹ ہونے کا استدلال۔
٭ زراعت‘ بنیادی سہولیات‘ سرمایہ کاری‘ استحکام‘ نوجوان اور خواتین کے مفادات کیلئے وسیع تر تجاویز۔
٭ 19 ہزار 700 کروڑ روپئے نیشنل گرین ہائیڈروجن مہم کیلئے مختص؛ دیہاتوں کی سطح پر امدادِ باہمی خدمات کے 63 ہزار اداروں کو کمپیوٹرائز کرنے کا فیصلہ۔
٭ نئے ٹیکس نظام میں انکم ٹیکس سے رعایت کی حد 5 لاکھ سے بڑھاکر 7 لاکھ کردی گئی۔
٭ بزرگ شہریوں کیلئے ڈپازٹ کی زیادہ سے زیادہ حد میں 30 لاکھ روپئے تک کا اضافہ۔
٭ قانون ساز کونسل کے اساتذہ اور گریجویٹس حلقوں کیلئے آج ووٹوں کی گنتی۔
اور۔۔ ٭ تیسرے ٹی۔ ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھارت کی 168 رنوں سے فتح۔
***** ***** *****
اب خبریں تفصیل سے:
مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رَمن نے کل لوک سبھا میں مالی سال 2023-24 کیلئے مجموعی طور پر 45 لاکھ کروڑ روپئے کے اخراجات پر مشتمل عام مالیاتی بجٹ پیش کیا‘ جس میں سرمایہ مصارف 10 لاکھ 961 کروڑ روپئے ہوں گے۔ اس طرح گذشتہ برس کے مقابلے میں اخراجات کی مد میں 37 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ قرضوں کو چھوڑ کر اس سال کیلئے مالی ذخائر 27 لاکھ 20 کروڑ روپئے دکھائے گئے ہیں۔
حکومت کو ٹیکسوں کی مدمیں 26 لاکھ 32 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی‘ جبکہ دیگر ذرائع سے 18 لاکھ 70 ہزار 816 کروڑ روپئے کی آمدن متوقع ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بھارت کی معیشت روشن مستقبل کی جانب اور صحیح سمت میں گامزن ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقوامِ عالم ہندوستانی معیشت کے عروج کو اُمید کی کرن کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ اس بجٹ کے ذریعے بھارت کی آزادی کے صد سالہ برس میں قومی معیشت کا کیا خاکہ ہوگا اُسے پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بجٹ سپت رشی یعنی 7 ترجیحی موضوعات پر پیش کیا گیا۔ جامع ترقی‘ ترقی کے فوائد کو معاشرے کے آخری طبقے تک پہنچانا‘ بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ‘ بااختیار بنانا‘ سبز ترقی‘ نوجوانوں کی طاقت اور مالیاتی شعبہ یہ بجٹ کے 7 اہم نکات ہیں۔
مائیکرو‘ چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری شعبے کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے 3 کروڑ روپئے تک کے سالانہ ٹرن اوور رکھنے والی کمپنیوں کو 75 لاکھ روپئے تک ہی قرض مل سکے گا۔ اس بجٹ میں امدادِ باہمی شعبے کیلئے بھی بہت سے رعایتیں دی گئی ہیں، جن میں 31 مارچ 2024 تک کے ٹرن اوور کیلئے 15 فیصد ٹیکس ریلیف یا فی الحال موجود ٹیکس رعایتیں دی جائیں گی۔ وزیرِ خزانہ نے 2016-17 میں امدادِ باہمی شکر کارخانوں کی طرف سے کسانوں کو دی گئی رقومات پر ریٹرن طلب کرنے کا موقع دیاہے۔ ا س سے امدادِ باہمی شکر کارخانوں کو 10 ہزار کروڑ روپئے کا ریلیف مل سکے گا۔ صنعتوں کو شرو ع کرنے کیلئے دی جانے والی رعایتیں اس سال بھی جاری رکھی جائیں گی۔ ملکی معیشت‘ برآمدات کی شرحِ نمو کو برقرار رکھنے کیلئے اور برآمدات کو فروغ دینے کیلئے نیز سبز توانائی اور بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں بھی بہت سی رعایتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
زرعی شعبے میں زائد قیمتوں والے پھلوں کی کاشت کیلئے بیماریوں سے پاک معیاری پودے لگانے کیلئے ضروری اشیاء کی دستیابی میں سہولت کیلئے بجٹ میں 2 ہزار 200 کروڑ روپئے مختص کیے گئے۔
گردشی معیشت کو فروغ دینے کیلئے ”گوبردھن یوجنا“ کے تحت فضلے کو کارآمد بنانے کے 500 نئے پروجیکٹ شروع کیے جائیں گے۔ حال ہی میں شروع کیے گئے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن پر 19 ہزار 700 کروڑ روپئے خرچ کیے جائیں گے۔ اس طرح ہندوستان سبز توانائی کے میدان میں عالمی منڈی میں قیادت کا اہل ہوسکے گا۔ اس کیلئے 2030 تک 50لاکھ ٹن سالانہ پیداوار کا ہدف رکھا گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ملک میں 157 نئے نرسنگ کالج قائم کیے جائیں گے۔ 740 ایکلوئیے مثالی اقامتی اسکولز میں 38 ہزار 800 اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ بھرتی کیا جائیگا۔ جہاں ساڑھے تین لاکھ قبائیلی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ریلوے کیلئے 2 لاکھ 40 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف مختص کیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کو بین الاقوامی مواقع فراہم کرنے کیلئے مختلف ریاستوں سے 30 اسکل انڈیا انٹرنیشنل سینٹر قائم کیے جائیں گے۔
نرملا سیتا رمن نے مائیکرو‘ درمیانی اور چھوٹی صنعتوں کیلئے 9 ہزار کروڑ روپئے کے اضافے کے ساتھ نئی گیارنٹی کریڈٹ اسکیم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔راست ٹیکوں کی مد میں شعبوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں تنخواہ دار ملازمین کو بھی بڑا ریلیف ملا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے انکم ٹیکس کے حوالے سے 5 بڑے اعلانات کیے۔ ان رعایتوں کے تحت سابقہ اور نئی مراعات کے مطابق 7 لاکھ روپئے کی سالانہ آمدنی کو مکمل طور پر بلا ٹیکس رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل آمدنی کے 6 درجوں کو اب 5 درجوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس کے تحت 3 لاکھ روپئے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ 3 تا 6 لاکھ آمدنی پر 5 فیصد‘ 6 تا 9 لاکھ کی آمدنی پر 10 فیصد‘ 9 تا 12 لاکھ روپئے پر 15 فیصد اور 12 تا 15 لاکھ پر 20 فیصد اس کے علاوہ 15 لاکھ سے زائد آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
پارچہ بافی صنعت اور زراعت کو چھوڑ کر 21 میں سے 13 اشیاء پر عائد کی جانے والی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔ اس سے کھلونے‘ سائیکل‘ موٹر گاڑیاں اور دیگر چند ایک اشیاء پر ٹیکس کم ہوجائیگا۔ کمپریس بائیو گیس‘ موبائل اور ٹی وی کے لگنے والے کل پرزوں‘ کیمرہ، بیٹری اور کیمیکل و پیٹرو کیمیکل اشیاء پر سے بھی ایکسائز ڈیوٹی کم کردی گئی ہے۔ سونا‘ چاندی اور پلاٹینم میں کسٹمز ڈیوٹی اور سگریٹ پر لگنے والے سرچارج میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
***** ***** *****
سالانہ بجٹ کا وزیرِ اعظم نریندر مودی نے خیر مقدم کیا اور اس بجٹ کو ملک کی ترقی کی رفتار میں اضافہ کرنے والا قرار دیا۔
وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اس بجٹ کو غریبوں کو بنیاد فراہم کرنے والا متوسط طبقے کو ریلیف دینے والا اور صنعتوں کیلئے بہترین قرار دیا۔
نائب وزیرِ اعلیٰ دیویندر پھڑنویس نے بھی اس کا خیر مقدم کیا۔ ریاستی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے قائد اجیت پوار نے بجٹ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ بجٹ آئندہ عام انتخابات کو نظر میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے‘ اس بجٹ میں سابقہ اعلانات کا ہی اعادہ کیا گیا۔
***** ***** *****
ریاستی قانون ساز کونسل کے اساتذہ اور گریجویٹس حلقوں کیلئے آج ووٹوں کی گنتی عمل میں آئیگی۔ ان میں مراٹھواڑہ‘ کوکن‘ ناگپور‘ اساتذہ حلقے اور امراوتی و ناسک گریجویٹس حلقے شامل ہیں۔ گذشتہ پیر کو ان حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔
***** ***** *****
احمد آباد میں کھیلے گئے تیسرے ٹی۔ ٹوئنٹی کرکٹ میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو 168 رنوں سے شکست دیکر تین میچوں کی سیریز 2-1 سے جیت لی۔ پہلے بلّے بازی کرتے ہوئے بھارت نے شبھ من گِل کے غیر مفتوح 124 رنوں کی مدد سے 20 اوور میں 234 رن بنائے۔ جواب میں نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 13 ویں اوور میں 66 رن بناکر آؤٹ ہوگئی۔ بھارت کی جانب سے ہاردک پانڈیا نے 4 اور ارشدیپ سنگھ‘ عمران ملک اور شیوم ماوی نے 2-2 وکٹ لیے۔ گِل کو مین آف دی میچ اور پانڈیا کو مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔
***** ***** *****
::::: سرخیاں::::::
آخرمیں اس بلیٹن کی خاص خبریں ایک بار پھر:
٭ 2023-24 کیلئے 45 لاکھ کروڑ روپئے پر مشتمل سالانہ عام مالیاتی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش؛ سات ترجیحی مجموعے پر مبنی بجٹ ہونے کا استدلال۔
٭ زراعت‘ بنیادی سہولیات‘ سرمایہ کاری‘ استحکام‘ نوجوان اور خواتین کے مفادات کیلئے وسیع تر تجاویز۔
٭ 19 ہزار 700 کروڑ روپئے نیشنل گرین ہائیڈروجن مہم کیلئے مختص؛ دیہاتوں کی سطح پر امدادِ باہمی خدمات کے 63 ہزار اداروں کو کمپیوٹرائز کرنے کا فیصلہ۔
٭ نئے ٹیکس نظام میں انکم ٹیکس سے رعایت کی حد 5 لاکھ سے بڑھاکر 7 لاکھ کردی گئی۔
٭ بزرگ شہریوں کیلئے ڈپازٹ کی زیادہ سے زیادہ حد میں 30 لاکھ روپئے تک کا اضافہ۔
٭ قانون ساز کونسل کے اساتذہ اور گریجویٹس حلقوں کیلئے آج ووٹوں کی گنتی۔
اور۔۔ ٭ تیسرے ٹی۔ ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھارت کی 168 رنوں سے فتح۔
***** ***** *****
आकाशवाणी औरंगाबादची बातमीपत्र AIR CHHATRAPATI SAMBHAJINAGAR NEWS
Thursday, 2 February 2023
Text - آکاشوانی اورنگ آباد‘ علاقائی اُردو خبریں-بتاریخ: 02 فروری 2023‘ وقت: صبح 09:00-09:10
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Text - आकाशवाणी छत्रपती संभाजीनगर - दिनांक 06.04.2026 रोजीचे सायंकाळी 06.10 वाजेचे मराठी बातमीपत्र
Regional Marathi Text Bulletin, Chhatrapati Sambhajinagar Date – 06 April 2026 Time 18.10 to 18.20 Language Marathi आकाशवाणी छत्रप...
-
Regional Marathi Text Bulletin, Chhatrapati Sambhajinagar Date – 04 December 2025 Time 18.10 to 18.20 Language Marathi आकाशवाणी छत...
-
आकाशवाणी औरंगाबाद. संक्षिप्त बातमीपत्र ३० जून २०१७ सकाळी १०.०० वाजता **** देशातली सर्वात मोठी कर सुधारणा म्हणून ओळखली जाणारी...
No comments:
Post a Comment